وحدت بائبل -01

وحدتِ بائبل
ہم سب حقیقت کی تلاش میں ہیں- ہم میں سے بعض لوگوں نے اِس حقیقت کو پالیا ہے اور باقی اِس جستجو کو جاری رکھے ہوئے ہیں- آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ اِس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت خود خدا ہے- اگر ہم تمام علوم حاصل کرلیں لیکن ذاتِ باری تعالٰے سے لاعلم رہیں تو ہمیں کچُھ فائدہ نہیں- لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم محدود انسان اپنے محدود علم اور محدود ذہن کے ساتھ خدا کو جو لامحدود ہے جان نہیں سکتے- پس لازم ہے کہ خدا خود اپنے آپ کو ہم پر ظاہر کرے اور اُس نے ایسا کیا بھی- چنانچہ اُس نے مختلف اوقات میں، مختلف مقامات پر مختلف لوگوں کو چُنا تاکہ اُن کے ذریعے اپنے آپ کو ظاہر کرے- یہ لوگ جنہیں خدا نے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لئے چُنا انبیاء کہلائے- خُدا کے اِن برگزیدہ بندوں نے اُس کے پیغام کو لوگوں تک زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں پہنچایا- وُہ متعدد کتابیں جو اِن انبیائے کرام کی معرفت ہم تک پہنچی ہیں، اُن کے مجموعہ کو ہم کتابِ مُقدّس یا بائبل کہتے ہیں- اس کے دو حصّے ہیں- ایک پرانا عہد نامہ جو توریت- )پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثنا(، زبور اور صحائفِ انبیاء پر مشتمل ہے-دوسرا حصّہ نیا عہد نامہ کہلاتا ہے جو اناجیل، خطوط اور مکاشفہ کی کتاب پرمشتمل ہے- عجیب وغریب بات جو یہاں ہمارے سامنے آتی ہے یہ ہے کہ بائبل مُقدّس ایک کتاب نہیں بلکہ بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے- اِس کا لکھنے والا، ایک شخص نہیں بلکہ چالیس سے زیادہ افراد ہیں- پھر اِس پر مستزادیہ کہ وہ تمام افراد ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے- وہ مختلف زمانوں مختلف مقامات پر رہتے تھے- اُن کی اپنی حیثیت بھی مختلف تھی- اُن میں کوئی بادشاہ تھا تو کوئی چرواہا، کوئی ماہی گیر تھا تو کوئی بہت بڑا عالم- اگر ایسے لوگوں کی تصنیفات کو جو مختلف پس منظر، مختلف زمانہ اور مختلف اہلیت کے حامل ہوں اور جن کی پہلی تصنیف اور آخری تصنیف میں 1600 سال کا عرصہ ہویک جا جمع کردیا جائے تو ظاہر ہے کہ اُن میں کوئی وحدت نہیں پائی جائے گی- ہم اپنے تجربہ سے بھی جانتے ہیں کہ جب ہم ایک ہی موضوع پردو مختلف مصنفین کی کتابیں پڑھتے ہیں تو اُن میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے- لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جب ہم بائبل مُقدّس کا مطالعہ کرتے ہیں جو 66 کتابوں کا مجموعہ ہے تو اُس میں بے حد وحدت پاتے ہیں- ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ایک ہی کتاب پڑھ رہے ہیں- یہ وحدت جو انسانی طور پر نا ممکن ہے اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بائبل کے تمام مصنفین کے پسِ پشت کوئی مافوق الفطرت قوت یا ذہن کام کر رہا تھا اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ذہن خدا کا ذہن تھا- اگر ایسا نہ ہوتا تو اُن کے درمیان بھی اختلافات پائے جاتے اور اُن میں تطبیق نہ ہوتی- بائبل مُقدّس کا حقیقی مُصنف خدا ہی ہے جس نے اپنا پیغام ہم جیسے انسانوں کے وسیلے سے ہم تک پہنچایا- لیکن اُس نے اُن افراد کو مشین یا اِملا لکھنے والوں کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے خُدا کے پیغام کو اپنے الفاظ، اپنی قابلیت اور اپنی طرزِ تحریر کے مطابق لکھا- یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ہر کتاب کی زبان اور طرز دوسروں سے مختلف ہے تاہم اُن کے مضمون میں تسلسُل اور وحدت پائی جاتی ہے- اس حقیقت کی طرف عبرانیوں کے خط کا مصّنِف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ”اگلے زمانہ میں خدا نے باپ دادا سے حصّہ بہ حصّہ اور طرح ہر طرح نبیوں کی معرفت کلام کرکے اِس زمانے کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کیا ۔ ۔ ۔ “ )عبرانیوں(2,1:1- اس حوالے میں اِس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا نے مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء کی معرفت کلام کیا اور اب اُس کلام کو یسُوع المیسح میں پایہُ تکمیل کو پہنچایا، یعنی جو کلام انبیاء کو دیا گیا وہ میسح میں پُورا ہوتا اور اِختتام کو پہنچتا ہے- چناچہ اگر ہم پرانے عہد نامہ یعنی توریت، زبور، صحائفِ انبیاء کو نہ پڑھیں تو ہم نئے عہد نامہ یعنی انجیل کو نہیں سمجھ سکتے- اور یہ اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ بائبل مُقدّس میں کامل وحدت پائی جاتی ہے-