حقانیتِ بائبل-02

حقانیتِ بائبل
لیکن ممکن ہے کہ کتابِ مُقدّس کا مطالعہ کرتے وقت کِسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوکہ: ”جو کچھ میں پڑھ رہا ہوں کیا وہ واقعی خدا کا کلام ہے؟ ایسا تو نہیں کہ کچھ لوگوں نے خود لکھ کر اُسے خُدا سے منسُوب کر دیا؟“ یہ سُوالات اِس لئے اُٹھتے ہیں کہ ہم ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر بات کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے- پھر کسی کے ذہن میں یہ سوال بھی اُٹھ سکتا ہے کہ کہیں مُدعی سُست اور گواہ چُست والا معاملہ تو نہیں! ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بائبل خدا کا کلام ہے لیکن کیا بائبل بھی یہ گواہی دیتی ہے؟ پس آیئے ہم پہلے بائبل مُقدّس سے دیکھیں کہ وہ اپنے متعلق کیا کہتی ہے- حضرت یرمیاہ نبی اپنے صحیفے میں فرماتے ہیں: ”تب خداوند نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے منہ کو چھُوا اور خداوند نے مجھے فرمایا دیکھ میَں نے اپنا کلام تیرے مُنہ میں ڈال دیا“ (9:1)- یہاں نبی واضح الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ یہ کلام اُس کا اپنا نہیں بلکہ خُدا کا ہے- ایک اور نبی حضرت یسعیاہ کے صحیفے میں ارشادِ خداوندی ہے: ”میری رُوح جو تجھ پر ہے اور میری باتیں جو میَں نے تیرے منہ میں ڈالی ہیں تیرے منہ سے اور تیری نسل کے منہ سے اور تیری نسل کی نسل کے منہ سے اب سے لے کر ابد تک جاتی نہ رہیں گی- خداوند کا یہی ارشاد ہے“ )یسعیاہ 21:59(- اِس حوالے میں کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں- پہلی یہ کہ خُدا کی رُوح نبی پر تھی اور اُس نے اپنی باتیں اُس کے منہ میں ڈالیں- مطلب یہ کہ نبی جو کچھ کہہ رہا تھا وہ خدا کے رُوح کے ویسلے سے کہہ رہا تھا اور وہ باتیں خدا کی باتیں تھیں- دوسری یہ کہ یہ کلام کبھی بدلے گا نہیں- کبھی جاتا نہ رہے گا بلکہ نسل در نسل اِسی طرح دُہرایا جاتا رہے گا اور اِس کے پیچھے سب سے بڑی سندیہ ہے کہ یہ خداوند کا ارشاد ہے- یہ اُس کا حکم ہے- اِسے کوئی بدل نہیں سکتا- اس کی کہی ہوئی بات کبھی جُھوٹی نہیں ہوسکتی- ایک اور بزرگ یعنی حضرت داؤد فرماتے ہیں: ”خُداوند کی رُوح نے میری معرفت کلام کیا اور اُس کا سُخن میری زبان پر تھا“ 2)- سموئیل(2:23 - اِس سلسلے میں ہم اَور بھی حوالے پیش کرسکتے ہیں، تاہم طوالت کے خوف سے اِتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں- اب ہم میسح خداوند کی گواہی کو پیش کرتے ہیں- آپ اپنے حواریوں سے فرماتا: ”بولنے والے تم نہیں بلکہ تمہارے باپ کا رُوح ہے جو تم میں بولتا ہے“ متّی 20:10- چنانچہ انجیل جلیل میں حواریوں نے جو کچھ فرمایا وہ باپ کے روح یعنی خود خدا کا فرمایا ہُوا ہے کیونکہ وہ اُن میں بولتا تھا- اِس سلسلے میں ایک اور حوالہ پیش کرتے ہیں- اور اِس کی ضرورت اِس لئے پیش آئی کہ اِس میں نہ صرف اِس بات وضاحت موجود ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے بلکہ یہ بھی کہ انبیائے کرام سے غلطی نہیں ہوئی- پطرس رسول فرماتے ہیں: ”کتاب مُقدّس کی کسی نبّوت کی بات کی تاویل کسی ذاتی اختیار پر موقوف نہیں- کیونکہ نبّوت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی رُوح القدُس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے“ )2- پطرس (21-20:1 - یہ ایک بہت بڑی اور بہت اہم گواہی ہے کہ کتاب مُقدّس میں کسی نبی یا رسول نے اپنی طرف سے کبھی کوئی بات نہیں کہی- جب خدا نے اُسے کہا تب وہ بولا اور اُسے من وعَن لوگوں تک پہنچا دیا- اِس سے بڑھ کر اور کوئی گواہی نہیں ہوسکتی- اگرچہ اِس کا براہ راست حقانیت بائبل سے تعلق نہیں تو بھی یہاں اِس بات پر غور کرنا مفید ہوگا کہ آخر خدا کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ اِتنے انبیاء کی معرفت ہم سے کلام کرے؟ اس سوال کا جواب عبرانیوں 4-1:1 میں ملتا ہے: ”اگلے زمانہ میں خدا نے باپ دادا سے حصّہ بہ حصّہ اور طرح بہ طرح نبیوں کی معرفت کلام کرکے اِس زمانہ کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کیا جِسے اُس نے سب چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جِس کے وسیلے سے اُس نے عالَم بھی پیدا کئے- وہ اُس کے جلال کا پَر تَو اور اُس کی ذات کا نقش ہوکر سب چیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے- وہ گناہوں کو دھوکر عالَِم بالا پر کبریا کی دہنی طرف جا بیٹھا“- اِس حولے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف انبیائے کرام کی معرفت کلام کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ خدا اور حضور المیسح کے بارے میں جانیں- کیونکہ اگر وہ المیسح کے بارے میں نہیں جانتے تو وہ اپنے گناہوں سے مخلصی حاصل نہیں کرسکتے- خدا نے جب دیکھا کہ انسان گناہ میں گرگیا ہے تو اُس نے اُن کو نجات کا راستہ دکھایا- انبیاء اسی راستے کی گواہی دینے آتے رہے- اور آخر میں وہ راستہ خود آگیا اور اُس نے کہا: ”راہ اور حق اور زندگی میں ہوں“یوحنّا )6:14 (- 3-
ایک ثبوت
المیسح کی ولادت سے صدیوں پہلے کی بات ہے کہ بائبل کی سلطنت اپنے پورے عروج پر تھی- تاریخ دانوں کے بیان کے مطابق اُس کےقَلعوں کی دیواریں 200 دو سو فٹ بلند تھیں جن پر کئی رَتھ ایک دوڑ سکتے تھے- یونانی اپنے علم وفن میں اِنہی کے مرہونِ منت تھے- بابل کے دیوتا کا مندر ایک عجوبہ روزگار تھا- بابل کے معّلق باغات کا دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا- یہ دنیا کا زرخیرز ترین علاقہ سمجھا جاتا تھا- اتنی بڑی سلطنت کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن یہ صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو جائے گی- لیکن خدا کے نبی حضرت یسعیاہ نے فرمایا: ”بابل جو مملکتوں کی حشمت اور کسدیوں کی بزرگی کی رونق ہے سدوم اور عمورہ کی مانند ہو جائے گا جن کو خدا نے اُلٹ دیا- وہ ابد تک آباد نہ ہوگا اور پشت در پشت اس میں کوئی نہ بَسے گا- وہاں ہرگز عرب خیمے نہ لگائیں گے اور وہاں گڈرئے گلوّں کو نہ بٹھائیں گے- پربَن کے جنگلی درندے وہاں بیٹھیں گے اور اُن کے گھروں میں اُلوّ بھرے ہوں گے- وہاں شتر مرغ بسیں گے اور چھگمانُس وہاں ناچیں گے- گیدڑ ان کے عالیشان مکانوں میں اور بھیڑیئے اُن کے رنگ محلوں میں چِلاّئیں گے۔ ۔ ۔ تب تُو شاہ بابل کے خلاف یہ مَثل لائے گا اور کہے گا کہ ظالم کیسا نابوُد ہوگیا ! اورغاصب کیسا نیست ہُوا“! - )یسعیاہ (4:14 – 19:13 خدا کے ایک اَور نبی نے فرمایا: ”بابل کھنڈر ہوجائے گا اور گیدڑوں کا مقام اور حیرت اور سُسکار کا باعث ہوگا اور اُس میں کوئی نہ بسے گا“ )یرمیاہ (37:51- جس وقت خُدا کے ان مُقدّس نبیوں نے یہ الفاظ ادا کئے، اُس وقت بابل دنیا کی ملکہ سمجھا جاتا تھا- اُسے”سنہری شہر“کے نام سے یاد کیا جاتا تھا- اِس شہر کا جِسے پوری دنیا کا دارالسلطنت سمجھا جاتا تھا تباہ ہوجانا حیرت انگیز بات ہے- کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اتنی بڑی مملکت خواب بن جائے گی- بابل ایک زبردست مملکت تھی جس کے مقابلے میں یروشلیم کی حیثیت بڑی معمولی تھی- دونوں کی جنگ ہوئی اور یروشلیم بابل کا غلام بن گیا- لیکن وہی ہُوا جو خُدا نے کہا تھا- بابل کا نام صفئہ ہستی سے مٹ گیا اور یروشلیم آج تک زندہ ہے- یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کے اہم شہر ایسی جگہ پر واقع ہوتے ہیں کہ اگر تباہ بھی ہو جائیں تو بھی دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں - لیکن اس شہر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ابد تک آباد نہ ہوگا اور ایسا ہی ہُوا- اور کیوں نہ ہوتا ؟ خداوند کا کلام کبھی غط نہیں ہوسکتا- دمشق، یروشلیم، اتیھنز، روم، اِنطاکیہ، سکندریہ اور صیدوم ہزاروں سال گزر نے کے بعد بھی موجود ہیں، اگرچہ تباہیوں اور بربادیوں نے ادھر بھی رُخ کیا لیکن آج بابل کہاں ہے؟ وہ بابل جو دنیا کا امیر ترین شہر تھا خاک میں مل گیا- علاوہ ازیں، خدا نے اپنے نبی کی معرفت یہ بھی فرمایا کہ وہاں عرب ہرگز خیمے نہ لگائیں گے- ایک سیاّح نے اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ میرے ساتھ عرب بھی تھےاور وہ اسلحہ سے لیس تھے لیکن مَیں انہیں کسی صورت میں قائل نہ کرسکا کہ وہ وہاں رات بسر کریں، کیونکہ بھوتوں کا خوف اُن کے دل سے نکالا نہیں جاسکتا- بہادر عرب اپنی شجاعت کے باوجود اس جگہ رات نہیں گزارتے- بابل کی مضبوط فصیل کے بارے میں بھی صدیوں پہلے خدا نے کہہ دیا تھا کہ وہ گرادی جائے گی اور اُس کے بلند پھاٹک آگ سے جلا دیئے جائیں گے، اور ایسا ہی ہُئوا- آج رُوئے زمین پر یہ مضبوط فصیل نظر نہیں آتی- بائبل مُقدّس کی یہ صدیوں پرانی پیش گوئی اپنی تفصیل کے ساتھ پوری ہوگئی- اِس بڑی مملکت کے کھنڑرات زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ انبیاء خدا کے فرستادہ تھے- اُن کا کلام خدا کا کلام تھا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کتاب مُقدّس خدا کا کلام ہے- بائبل کی صداقت کی تصدیق آج بھی بابل کے کھنڑرات کر رہے ہیں-