The Incarnation of Christ 05 - تجسُمِّ مسیح

تجسُمِّ مسیح
معزز قارئین! اگر آپ کو کبھی چھوٹے بچوں کو پڑھانے کا اِتفاق ہُوا ہو تو آپ یقینا اِس مشکل سے دوچار ہوئے ہوں گے کہ اپنے علم کو کس طرح چھوٹے سے ذہن میں ڈالا جائے- چونکہ بچّے کا ذہن محُدود ہوتا ہے اور آپ کا علِم اُس کے مقابلے میں بڑا ہے اِس لئے وہ پُورے طور پر اُس کے ذہن میں داخل نہیں کیا جاسکتا- آپ کے لئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ اپنے علِم کو بچّے کے ذہن کے مطابق ڈھالیں اور اُس کے ذہن کی سطح پر اُتر آئیں، ورنہ آپ کا علِم بچے کے لئے بیکار ہے- بالکل یہی مسلہ خدا کو درپیش تھا کہ وہ لامحدود ہوتے ہُوئے کس طرح اپنے آپ کو محدود اِنسان کے سامنے ظاہر کرے- پس وہ اپنا اظہار انسانی سطح پر کرتا ہے- پہلے اُس نے انبیا کی معرفت انسانی زبان میں کلام کرتے ہوئے اپنے آپ کو ظاہر کیا- جس طرح ایک عالم بچے کو سمجھانے کے لئے اُس کی ذہنی سطح پر اُتر آتا ہے، اُسی طرح خدا نے بھی محدور اِنسانی زُبان میں کلام کیا- انبیاء کی معرفت خدا کا اپنے اِظہار کا یہ سلسلہ جاری رہا- یعنی خُدا اپنے آپ کو اس طرح ظاہر کرتا رہا جس طرح کہ انسان کی سمجھ میں آسکتا تھا- لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خُدا نے اِنسان کو ٹیپ ریکارڈر کی طرح اِستمعال نہیں کیا بلکہ بحیثیت انسان اپنا پیغمبر بناکر- خدا نے اپنا کلام پیغمبر کے باطنی کان میں سنایا اور اُس نے اُسے اپنی مادری زبان میں ادا کیا- لیکن اِس خدائی پیغام کو اِنسانی زُبان میں ادا کرنے کا فریضہ انبیاء کو بہت مشکل لگا- چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسٰی نے فرمایا کہ میری زُبان میں لکنت ہے )خروج - (10 : 4 حضرت یسعیاہ کہتے ہیں کہ میں ناپاک ہونٹوں والا ہوں )یسعیاہ - (5 : 6 حضرت یرمیاہ پکارا اٹھے کہ اے خداوند دیکھ میں بول نہیں سکتا )یرمیاہ- (6 : 1 لیکن خُدا نے ان تمام افراد کا ذمہ لیا اور اُن کی محدود ُزبان میں اپنا کلام قلمبند کروایا- مکاشفہ کے اِس عمل کے دوران نہ تو وہ بے ہوش ہوئے، نہ ان کے ذہن معطل کئے گئے اور نہ وہ مُردوں کی مانند بنائے گئے بلکہ اُن کی ذہنی صلاحیتیں برقرار رہیں- کیونکہ جو کلام بیہوشی کے عالم میں ملے اُس سے پیغمبر کو کیا فائدہ! انبیا نے ہوش وحراس برقرار رکھتے ہوئے خدا کا کلام سُنا اور سنایا- خُدا نے انبیا کی معرفت اِس لئے کلام کیا کیونکہ وہ انسان سے محبت رکھتا ہے- یہ اُس کی محبت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اُس پر ظاہر کرے- لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ بچے کو محبت کے بارے میں خواہ کچھ بھی بتائیں محبت کا پُورا تصور اُس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک کہ آپ خود عملی طور پر محبت کا ثبوت نہ دیں- بچے کو ایک دفعہ گلے سے لگا لینا تمام عُمر کے وعظوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھر پُور اظہار ہے- یہی کچُھ خدا نے بھی کیا- سلسلہ نبوت کے آخر میں خدانے انسانی جسم میں ظہور فرمایا- وہ مکمل طور پر ہماری سطح پر اُتر آیا اور انسان بن کر ہمارے درمیان رہا- وہ ہمارے دُکھ سکھ میں شریک ہُوا- اُس نے دنیا سے اِتنی ٹوٹ کر محبت کی کہ اپنی جان تک بنی نوع انسان کے لئے دے دی- اِس مجسّم کلام، مجسّم محبت اور مجسم مکاشفے کا نام خُداوند یسُوع المسیح ہے- خدا کی اِس محبت کی داستان کتابِ مُقدّس یعنی بائبل میں لکھی ہوئی ہے- کلام ہمیں بتاتا ہے کہ خا۔ محبت کرنے والا خدا ہے )یوحنا -(16 : 3وہ محبت کرنے سے نہیں تھکتا- خُدا محبت ہے 1) - یوحنّا 4 : (8یعنی وہ سراسر محبت ہے- اُس کی محبت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگرچہ لوگوں نے اُس کی محبت کے پیغام کو ٹھکرایا اور یہاں تک کہ محبت کے آخری اور مکمل مکاشفہ کو موت کے گھاٹ اُتار دیا، لیکن خُدا کی محبت میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی- ہماری تمام جہالتوں اور فحالفتوں پر اُس کی محبت غالب ہے- ہم اِس محبت کے لئے اُس کا شکرادا کریں- اگرچہ ہم نے اُس کی محبت کی کوئی قدرنہ کی تو بھی اُس نے آگے بڑھ ہمیں گلے لگایا، اور یُوں اُس محبت کا بھر پُور اِظہار کیا جو وہ ہم سے رکھتا ہے-