06-ابنِ خُدا

ابنِ خُدا
اس دنیا میں متعدد رِشتے پائے جاتے ہیں- لیکن اکثر اوقات حالات اور زمانے کے اثرات ہمارے اِن انسانی تعلقات کو بدل دیتے ہیں- دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے اور حُب الوطنی غداری میں- میاں بیوی میں ناچاقی ہوجاتی ہے اور دوست واحباب جدا ہوجاتے ہیں- لیکن ایک رِشتہ ہے جو مُستقل ہے اور جِسے حالات نہیں بدل سکتے اور نہ زمانہ اُس پر انداز ہو سکتا ہے- بلاشبہ میاں بیوی کا رشتہ بڑا گہرا ہے- لیکن اگر شوہرکا اِنتقال ہو جائے یا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور بیوی دوسری شادی کرے تو وہ پہلے شوہر کا نام اِستعمال نہیں کرسکتی- یُوں حالات اُس رِشتے کو ختم کر دیتے ہیں- لیکن خدا نہ کرے کسی کے والد کا انتقال ہو جائے تو خواہ حالات کیسا بھی رُخ کیوں نہ اِختیار کرلیں، یہ رِشتہ تبدیل نہیں ہوتا- یہ وہ رِشتہ ہے جِسے موت بھی نہیں توڑتی- خُدا اور انسان کے اِسی اٹوُٹ رِشتے کو ظاہر کرنے کے لئے بائبل نے خُدا کے لئے باپ اور مسیح کے لئے بیٹے کا لفظ استعمال کیا ہے- ہم نے یہ دیکھا کہ خدا اپنی محبت کے پیشِ نظر اپنے مکاشفے کے لئے انسانی سطح پر اُتر آیا- چونکہ اِنسانی زبان اِنسانی ہونے کی وجہ سے محدود ہے، اِس لئے یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں غلط فہمی پیدا نہ ہوجائے- بعض لوگ اِس غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ نعُوذُ با للہ جب خداوند مسیح کے لئے بیٹے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تویہ جسمانی اور جنسی معنوں میں استعمال ہوتا ہے- اِس سلسلے میں وہ حضرت مریم کی شان میں نازیبا الفاظ بھی اِستعمال کرنے سے نہیں جھِجکتے- لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کا خیال نہ تو بائبل میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی مسیحی لوگ اِس قسم کا اعتقاد رکھتے ہیں- بائبل میں لفظ ”بیٹا“ اُس ازلی اور ابدی رِشتے کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو خدا باپ اور مسیح یسوع میں ہے- اِس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے ہم بہت سے حوالے پیش کرسکتے ہیں لیکن ہم صرف ایک حوالے پر ہی اکتفا کرتے ہیں- پرانے عہدنامہ میں بنی اسرائیل کو ”خدا کا بیٹا“ کہا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اِس کے کوئی جِنسی معنے نہیں ہوسکتے- یہ محبت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے یا بِالفاظِ دیگریوں کہہ لیجئے کہ محبوب ترین ہستی کو بیٹے کے نام سے یاد کیا گیا ہے- اِسی لئے جب مسیح لے لئے لفظ ”بیٹا“ استعمال کیا جاتا ہے تو اُس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ وہ محبوبِ الٰہی ہے- پھر ایک اَور چیز بھی قابل غور ہے، اور وہ یہ کہ بیٹا باپ کا اظہار ہوتا ہے- ہم بیٹے سے باپ کو پہچانتے ہیں- وہ اپنے باپ کی ذات کا پر تو اور عکس ہوتا ہے بعینہ ہم خداوند مسیح کے ذریعہ خدا کو پہچانتے ہیں- خود خداوند مسیح نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا )یوحنا - (9 : 14خدا کا کامل اور آخری مکاشفہ مسیح ہے- اُس کے بغیر ہم خدا کو نہیں جان سکتے )یوحنا – (18 : 1 اِس سلسلے میں مسیح کی صلیبی موت کو بھی سامنے رکھئے- مسیح کی صلیبی موت باپ کی محبت کا بہترین نمونہ ہے، اور محبت کی انتہا قربانی ہے- خُدائے بزرگ وبرتر عرشِ مُعلٰی پر بیٹھ کر محبت کے صرف دعوے ہی نہیں کرتا بلکہ اُس نے اِس کا عملی ثبوت بھی دیا- یہ نہ صرف ایک عملی ثبوت ہے بلکہ سب سے بڑا تاریخی ثبوت بھی ہے جس سے اِنکار ناممکن ہے- خداوند مسیح کی پیدائش میں اُس کی موت چھُپی ہوئی ہے- اُس کی پیدائش سے لے کر موت اور جی اُٹھنے تک ایک ہی محبت کا سلسلہ ہے- اِس مجسم محبت کا دوسرا نام خدا کا بیٹا ہے- خدا نے اپنا کامل اظہار مسیح میں کیا تو اُس محبت کی بِنا پر کیا جو اُسے اپنے بیٹے اور بنی نوع انسان سے ہے- یہ محّبت کیا ہے جِس کا کامل نمونہ خداوند مسیح ہے؟ اِسے آپ پولس رسول کی زبانی سنئے لکھا ہے: ”اگر میں آدمیوں اور فوشتوں کی زبانیں بولوں اور محّبت نہ رکھوں تومیں ٹھنٹھناتا پیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہوں- اور اگر مجھے نبّوت ملے اور سب بھیدوں اور کل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہوکہ پہاڑوں کو ہٹادوں اور محّبت نہ رکھوں تو میَں کچھ بھی نہیں- اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھِلادوں یا اپنا بدن جلانے کو دیدُوں اور محّبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں- محّبت صابر ہے اور مہربان- محبت حسد نہیں کرتی- محبت شخیی نہیں مارتی اور پُھولتی نہیں- نازیبا کام نہیں کرتی- اپنی بہتری نہیں چاہتی- جھنجھلاتی نہیں- بَدگمانی نہیں کرتی- بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے- سب کچھ سہہ لیتی ہے- سب کچھ یقین کرتی ہے- سب باتوں کی اُمید رکھتی ہے- سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔ ۔ ۔ غرض ایمان، اُمید، محبت تینوں دائمی ہیں مگر افضل اِن میں محّبت ہے“ - 1)کرنتھیوں – (13 خداوندِ جلیل سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اِس مجسم محبت یعنی بیٹے کو قبول کرنے کی توفیق عطا فومائے- وہ بیٹا جِس پر موت بھی غالب نہ آسکی بلکہ وہ جی اُٹھ کر موت پر غالب آگیا- خُدا کرے کہ آپ بھی اس کی اِس فتح میں شریک ہوسکیں اور یوحنّا رسُول کے ساتھ کہہ سکیں کہ خدا کے بیٹے کا خون مجُھے ساری ناراستی سے پاک وصاف کرتا ہے- 1 )۔ یوحنّا – (7 : 1