09-خدا کا بّرہ

خدا کا بّرہ
جب یوحنّا بپتسمہ دینے والے یعنی حضرت یحیٰی نے المسیح کو دیکھا تو بے ساختہ پُکار اُٹھے:”دیکھو یہ خُدا کا بّرہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے“ )یوحنا – (29:1 )
آپ نے اِس چھوٹے سے جمُلے میں حقیقتوں کا دریا سمودیا- آپ نے دریا کو کوزہ میں بند کردیا- اِن الفاظ سے حضرت یحیٰی نے المسیح کی شخصیت، اُس کی آمد کے مقصد اور کام پر روشنی ڈالی ہے- یہ حضرت یحیٰی کی اپنی ذاتی رائے نہیں تھی- اُنہوں نے خدا کے ایک برگزیدہ نبی حیثت سے خدا کے الہام سے یہ الفاظ کہے- اِن الفاظ کو سمجھنے کے لئے اِن کا پس منظر جاننا ضروری ہے- اِن الفاظ کے پیچھے پُورے پُرانے عہدنامہ یعنی توریت، زبور اور انبیا کے صحائف کی تعلیم ہے- جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ جب توریت شریف میں قربانی کا حکم دیا گیا تو قربانی کے جانور کے لئے دیگر شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی کہ وہ بے عیب ہو- جانور کے بے عیب ہونے کی شرط اس لئے لگائی گئی تھی کہ خُدا خود بے عیب ہے- وہ ہر نقص سے پاک ہے- اُس میں کوئی کجی اور خامی نہیں- اس لئے وہ صرف ایسی قربانی قبول کرسکتا ہے جو عیب سے مبّرا اور پاک ہو- یہ تصور ہی نہیں کیا سکتا کہ خدا کوئی عیب دار قربانی قبول کرے- بریں بنا شریعت کا زور اس بات پر رہا کہ قربانی کا جانور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو-
زمانہ شریعت کی کہانت میں کا ہن لوگ اِس قسم کی قربانیاں گنہگاروں کی طرف سے، خود اپنی طرف سے اور قوم کی طرف سے گزرانتے تھے- یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ کوئی شخص بھی گناہ سے پاک نہیں- جبکہ ایک طرف اِن قربانیوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ تمام انسان گنہگار ہیں تو دوسری طرف اس کے بار بار عمل سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اگرچہ خدا انسان کے ہاتھوں سے یہ قربانیاں قبول کرتا ہے لیکن درحقیقت جانوروں کا یہ خون اُس کے گناہ دھونے سے قاصر ہے- یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ ہمیں کِسی ایسی قربانی کی ضرورت ہے جو حقیقتا ہمارے گناہوں کا کفارہ دے سکے یعنی وہ ہماری جگہ موت سہے- خدا نے اِس کا اِنتظام ابتدائے عالم سے کررکھا تھا اور پرانے عہدنامہ کی قربانیوں میں جو کہ عارضی تھیں اِس کا اشارہ پایا جاتا ہے- نیز اُس نے اپنے انبیا کی معرفت بھی بتلایا- چنانچہ حضرت یسعیاہ نے اُس ہستی کے بارے میں جو بطور بّرہ قربان ہونے والا تھا اور جِسے دکھ اٹھانے والے خادم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یُوں فرمایا:
”اُس نے ہماری مشقتیں اُٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا- پر ہم نے اُس خدا کا مارا کُوٹا اور سِتایا ہُوا سمجھا- حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا- ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس پر سیاست ہوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں- ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے- ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی- وہ سِتایا گیا تو بھی اُس نے برداشت کی اور مُنہ نہ کھولا- جس طرح بّرہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کَتر نے والوں کے سامنے بے زبان ہے، اُسی طرح وہ خاموش رہا- وہ ظلم کرکے اور فتویٰ لگا کر اُسے لے گئے پر اس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کِس نے خیال کیا کہ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالا گیا؟ میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اُس پر مار پڑی- اس کی قبر بھی شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ ہُوا- حالانکہ اُس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا اور اُس کے منہ میں ہرگز چَھل نہ تھا“ )یسعیاہ – (9-53:4 )
یہ پیشین گوئی خداوند مسیح کے بارے میں تھی- خدا نے اُسے اسی کام کے لئے چنا تھا کہ وہ دکھ اٹھائے اور اُس نے یہ کام بخوبی انجام دیا- چونکہ وہ واحد بے عیب اور بے گناہ تھا اسی لئے اس کا انتخاب کیا گیا- بریں بنا حضرت یحیٰی نے اُسے دیکھتے ہی کہا کہ”دیکھوخدا کا بّرہ“- اس بّرے کا انتخاب خود خدا نے کیا تھا- حضرت یحیٰی کے اِن الفاظ کے ساتھ ہی سارا پرانا عہدنامہ ہماری نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے- جس طرح اُس زمانہ میں عارضی نظام کے تحت ایک جانور ایک گنہگار کے لئے اپنی جان دیتا تھا اُسی طرح اس زمانہ میں خدا نے بطور بّرہ مسیح کو چُنا تاکہ وہ ہمارے لئے ایک حقیقی اور دائمی قربانی دے-
حضرت یحیٰی مسیح کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ دنیا کے گناہ اٹھالے جاتا ہے- مسیح کی یہ قربانی خاص قوم اور جگہ کے ساتھ محضوص نہیں بلکہ پوری دنیا اور پوری کائنات اُس کے دائرہ عمل میں ہے- دنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جس کی خاطر اُس نے قربانی نہ دی ہو- ایشیا سے لے کر امریکہ تک اور قطب شمالی سے لے کر قطب جنوبی تک کے انسانوں کی خاطر اُس نے اپنی جان دی- اُس کی قربانی ہمہ گیر اور عالمگیر ہے-
جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ زامانہ سابق کی قربانیاں اگرچہ خدا قبول کرتا تھا لیکن بکروں اور بیلوں کا خون گناہ کے وجود کو مٹانے سے قاصر تھا- اُس وقت یہ قربانیاں ہر روز اور سال بہ سال دُہرائی جاتی تھیں لیکن مسیح کی قربانی ایسی نہیں- حضرت یحیٰی کے الہامی الفاظ میں خدا کا یہ بّرہ دنیا کا گناہ اُٹھالے جاتا ہے- ہمارے گناہ پر صرف پردہ نہیں ڈال دیا جاتا- انہیں صرف خون کی تہ میں چُھپا نہیں دیا جاتا- اِن سے صرف پردہ پوشی نہیں کی جاتی- خدا اُن گناہوں سے صرف نظریں پھیر کر اپنی رحمت کی طرف نہیں دیکھنے لگ جاتا بلکہ اُس بّرے کا خون ہمارے گناہوں کو دھو دیتا ہے- اُنہیں صاف کردیتا ہے- اُنہیں اُٹھالے جاتا ہے کہ اُن کا وجود نہیں رہتا- خدا ہمارے گناہوں سے صرف وقتی طور پر چشم پوشی نہیں کرتا بلکہ بّرے کا خون ہمیں اِس طرح پاک صاف کرتا ہے کہ ان گناہوں کا نام ونشان نہیں رہتا- اب جبکہ گناہوں سے مکمل معافی کا طریقہ خدا نے واضح کردیا ہے تو انسان کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اپنی ذاتی کوششوں اور کاوشوں کو چھوڑ کر خدا کے بّرے کو جو دنیا کا گناہ اُٹھالے جاتا ہے قبول کرے اور اِس طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گناہ کی بیماری سے شِفا پالے اور خدا کی رحمت کا مستحق ٹھہرے-