10-صلیب اور کفّارہ

صلیب اور کفّارہ
پولُس رسول نے خدا کے اِلہام سے فرمایا ”صلیب کا پیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدیک تو بیوقوفی ہے“ )1- کرنتھیوں 18:1 (کِسی بھی گنہگار انسان کی عقل اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ خدا دنیا سے ایسی محبت رکھ سکتا ہے کہ وہ اپنے محبُوب بیٹے یسوع مسیح کو بنی نوع انسان کی خاطر جان دینے کے لئے بھیج دے اور پھر موت بھی ایسی ہو جِسے سُن کر سینہ پَھٹ جائے- اِس لئے مخالفین نے اِس تاریخی واقعہ سے انکار کے مختلف طریقے گھڑ لئے- کِسی نے کچھ کہا اور کِسی نے کچھ- یہ سب کچھ اس لئے کہا گیا کہ مسیح کی صلیبی موت کا اقرار دراصل اِنسان کے اپنے گنہگار ہونے کا اعتراف ہے- یہی تو انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے گنہگار ہونے کا اعتراف نہیں کرتا، کیونکہ گنہگار ہونے کا احساس اُسے نجات دہندہ کی ضرورت کا اِحساس دلاتا ہے- غرض لوگ کِسی نہ کِسی طریقے سے مسیح کی صلیبی موت کا انکار کرتے اور خدا کے اِس مقررہ طریقہ، قربانی کو ٹھکراتے رہے- ہم ایسے طبعی اِنسانوں سے اِس کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں کرسکتے کیونکہ صلیب کا پیغام تو ہلاک ہونے والوں کے لئے بے وقوفی ہے-
کتابِ مُقدّس ہمیں صاف اور واضح الفاظ میں بتاتی ہے کہ مسیح کو مصلُوب کیا گیا اور خُدا کے اِس برگزیدہ نے اپنی جان صلیب پر دی- یہ سب کچُھ اُس نے بنی نوع اِنسان کی محبت کی خاطر کیا- تاریخ اِس بات پر شاہد ہے کہ مسیح کو مصلوب کیا گیا- مسیح نے حقیقتًا اپنی جان انسان سے محبت رکھنے کی وجہ سے دی- یہودی، یسوع ناصری کے شدید ترین مخالف تھے- اُس کا وجُود اُنہیں کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا- پس اُنہوں نے اُسے اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے رومی حکومت کا سہارا لیا اور اُس سراپا محّبت پر کُفر کا فتویٰ لگایا- لیکن اس فتویٰ کی بِنا پر اُسے قتل تو نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ سزائے موت کو عملی جامہ پہنانا حکومت کا کام تھا- چونکہ یہودی مسِیح کو ضرور ہی ہلاک کرنا چاہتے تھے اِس لئے اُنہوں نے اُس پر بغاوت کا الزام لگایا اور اس الزام کے تحت رومی حکومت نے موت کی سزا سُنادی اور مصلُوب کردیا-
یہودی موّرخ یوسیفس اِس بات کا اقرار کرتا ہے کہ مسیح کو مصلوب کیا گیا- یہودی جو کہ مسیح کے دعوؤں کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے اور اُس کی مخالفت کرتے تھے، اپنی مخالفت کے باوجود اِس تاریخی حقیقت سے اِنکار نہ کرسکے- یہودیوں کی طرح دوسرے گواہ رومی ہوسکتے ہیں جنہوں نے مسیح کو مصلوب کیا- رومی موّرخ اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ایک شخص بنام یسوع کو بغاوت کے الزام میں صلیب دی گئی تھی- تَسِتُس تو یہاں تک کہتا ہے کہ مسیح پنطیُس پیلا طُس کی گورنری میں صلیب دی گئی- سِو تونیس نے بھی اس واقعہ کا اِعتراف کیا ہے-
مسیح کے ہمعصر، اگرچہ مسیح کا مزاق اُڑایا کرتے تھے، لیکن اُس کی صلیبی موت سے اِنکار نہ کرسکے کیونکہ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا اور اِس کے عینی شاہد بھی موجود تھے- مسیح کی صلیبی موت سے اِنکار تاریخ کی روشنی میں ممکن ہی نہیں اُس دور کے مخالفین اور معتقدین دونوں اِس بات پر متفق ہیں کہ مسیح نے صلیب پر اپنی جان دی- یہودیوں نے مسیح کو ایسی موت کا مستحق سمجھا، لیکن ایمانداروں کے نزدیک یہ ایک عظیم قربانی جو اُس محبت کے پیشِ نظر دی گئی جو خدا کو بنی نوع انسان سے ہے-
معزز قارئین! اگر ہم مسیح کی صلیبی موت کو صرف تاریخی حیثیت سے مانین تو ہمیں اس سے کچھ فائدہ نہیں، کیونکہ اِس سے تو یہودیوں اور رومیوں کو بھی انکار نہیں- اہم بات یہ جاننا ہے کہ مسیح نے اپنی جان کیوں دی؟ اِس ”کیوں“ والے معاملے میں تاریخ ہماری کچُھ مدد نہیں کرتی- اِس سلسلے میں صرف بائبل ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو مدد کرسکتی ہے- بائبل بتلاتی ہے کہ مسیح کی موت صرف موت ہی نہیں بلکہ قربانی بھی ہے جو گناہ کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کی خاطر دی گئی- جس طرح دلدل میں پھنسا ہُوا انسان اپنے آپ کو دلدل سے نکا لنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ اس ہر کوشش اُسے مزید دلدل میں پھنسا دیتی ہے، اُسی طرح انسان کی تمام کوششیں اُسے گناہ کی دلدل سے نہ نکال سکیں- جس طرح دلدل میں پھنسا ہُوا انسان اس بات کا محتاج ہے کہ کوئی اُسے باہر نکالے، اُسی طرح گنہگار انسان کی نجات اور چُھٹکارے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی بے گناہ اور معصُوم اُسے اپنی جان پر کھیل کر باہر نکالے- یہی صلیب کا پیغام ہے کہ ایک بے گُناہ نے ہم گنہگاروں کی خاطر اپنی جان دے دی تاکہ ہم بچ جائیں- محبت قربانی دیتی ہے اور الہٰی محبت نے الہٰی قربانی دی- اُس خداوند کا شکر ہو جس نے بنایِ عالم سے پیشتر اِس دنیا سے محبت رکھی اور اِس کی نجات کی خاطر ابتدا ہی سے اہتمام کیا کہ وقت آنے پر اُس کا محبوب اُس کا پیارا اِنسانوں سے محبت کرتا ہُوا، اپنی جان دے دے-