11-مسیح کی موت اور قیامت

 مسیح کی موت اور قیامت
خدا کے انتظام کے مطابق تاریخ کا وہ لمحہ آپہنچا جس کے لئے خُدا کا محبوب دنیا میں بھیجا گیا تھا- وہ وقت آگیا جس کی طرف پہلے زمانے کے نبیوں نے اشارہ کیا تھا- وہ مقصد پُوار ہونے کو آیا جس کی خاطر تاریخ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھی- خُدا کے بّرے یعنی مسیح کی قربانی کا لمحہ آپہنچا- لیکن یہ کیا ؟ وہ جو ساری دنیا کو گناہ کے بند سے آزاد کرنے کے لئے آیا اُسے خود گرفتار کرلیا گیا- وہ جو زندگی بھر سنجیدہ رہا اُس سے مزاق کیا جارہا ہے- وہ جو اندھوں کے لئے آنکھیں تھا اُس کی اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی- وہ جس نے آج تک اپنے دشمنوں پر پھُولوں کی بارش کی، آج اُسے کانٹوں کا تاج پہنایا جارہا ہے- وہ جس نے اپنے مخالفوں پر کبھی ہاتھ نہ اٹھایا، آج اُس پر کوڑے برسائے جارہے ہیں- وہ جو لوگوں سے کہتا تھا کہ ”اے محنت اُٹھانے والوں اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ- میں تُم کو آرام دوں گا“ آج اُسے صلیب کی دو بھاری لکڑیوں کے بوجھ کے نیچے دبایا جارہا ہے- وہ جو بنی نوع انسان پر بِلا امتیازِ رنگ و نسل و مذہب، خدا کی برکتیں نازل کرتا رہا، آج خدا کے بندوں نے اُس پر صلیب لاد دی- وہ جو لوگوں کو دوبارہ زندگی بخشتا تھا آج خود اُس سے زندہ رہنے کا حق چھینا جارہا ہے- وہ جو گناہوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے اُس کا مزاق اڑایا جارہا ہے- اُسے صلیب پر سے اُتر آنے کے مشورے دیئے جارہے ہیں- اُسے دو ۲ ڈاکوؤں کے دومیان مصلوب کیا جارہا ہے اور یہ ڈاکو بھی اُسے لعنت ملامت کررہے ہیں- رحمت اللعالمین کا استقبال استہزا و تمسخُر سے کیا جارہا ہے- لیکن سنئے تو سہی اُس کی زبانِ مبارک سے کیا الفاظ ادا ہورہے ہیں: ”اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں“ )لوقا – (34 : 23 وہ زندگی اور موت کے درمیان اِس مختصر ترین لمحے میں بھی اُن لوگوں کے لئے معافی کی دعا مانگ رہا ہے- وہاں ایک ڈاکو نے بھی جو اُس کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے کہا: ”اے یسوع: جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا“- مسیح نے اُسے جواب دیا: ”میں تجھ سے سچح کہتا ہوں کہ آج ہی تُو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا“ )لُوقا - (43 : 23 اب وہ لمحہ آپہنچا جبکہ صلیب پر سے مسیح کی آخری آواز سنائی دی کہ ”اے باپ مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں“ اور یہ کہہ کر اُس نے دم دے دیا- یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ زندگی کے بانی کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا ؟ کیا یہ سب کچھ ایک حادثہ تھا ؟ حادثہ وہ ہوتا ہے جس کا پہلے سے علِم نہ ہو- لیکن مسیح تو سب کچھ جانتا تھا کہ کیا ہوگا- اُس نے بارہا اپنے حواریوں سے کہا کہ اُسے ضرور ہے کہ وہ یروشلیم کو جائے اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور جائے اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دُکھ اُٹھائے اور قتل کیا جائے )متی - (21 : 16 وہ تو پہلے ہی کہہ چکا کہ ابنِ آدم آدمیوں کے حوالے کیا جائے گا اور وہ اُسے قتل کریں گے )مرقُس - (31 : 9 اُس کی زندگی وہ آیئنہ تھی کہ لوگوں کو اُس میں اپنے گناہ صاف نظر آنے لگے اور ناپاکی کے لئے پاکیزگی کا وجود برداشت کرنا دو بھر ہوگیا- اب اِن لوگوں کے لئے ایک ہی راستہ کھُلا تھا کہ وہ پاکیزگی کے اس مجسمہ کو راستے سے ہٹا دیں اس کے باوجود اُس کے مخالفین کو اطمینان حاصل نہ ہوگا سکا- اِس بات کی تصدیق کرلی گئی کہ اُس نے واقعی صلیب پر جان دے دی ہے- لیکن مزید اطمینان کی خاطر اس کی پسلی میں نیزہ مارا تو خون اور پانی بہہ نکلا- اُسے قبر میں رکھ دیا گیا- لیکن دِل بار بار کہتا تھا کہ کِسی چیز کی کمی رہ گئی ہے- اِس لئے وہ حاکم وقت کے پاس پہنچے اور دوخواست کی کہ انہیں سپاہیوں کا ایک دستہ دیا جائے تاکہ وہ قبر کی حفاظت کرسکیں کیونکہ اُس نے کہا تھا کہ وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا )متی - (63 : 27 یہ تاریخ کا عجیب ترین واقعہ ہے کہ کسی کی قبر کی اس طرح نگہبانی کی گئی ہو- اُنہوں نے اُسے مُردے زندہ کرتے دیکھا تھا، اِس لئے ان کے دل میں ایک کھٹکا سا پیدا ہوچکا تھا کہ کہیں وہ خود بھی زندہ نہ ہو جائے- لیکن اِس احتیاط کے باوجود وہی کچُھ ہُوا جس کا اُنہیں خدشہ تھا کہ وہ تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھا- اور نہ صرف وہ جی اُٹھا بلکہ مختلف لوگوں پر اپنے آپ کو ظاہر بھی کیا- عورتوں نے اُسے مرنے کے بعد زندہ حالت میں دیکھا- اُس کے حواریوں نت اُسے دیکھا جو اُسے پہچاننے میں غلطی نہیں کھاسکتے تھے- وہ ایک وقت میں پانچ سو آدمیوں کو دکھائی دیا- اِس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسیح کا ایک حواری کہتا ہے: ”مسیح کتابِ مُقدّس کے مطابق ہمارے گنُاہوں کے لئے مُؤا- دفن ہُوا اور تیسرے دِن کتابِ مُقدّس کے مطابق جی اُٹھا- اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دکھائی دیا- پھر پانچ سو سے زیادہ بھائیوں کو ایک ساتھ دِکھائی دیا جن میں سے اکثر اب تک موجود ہیں اور بعض سوگئے- پھر یعقوب کو دکھائی دیا- پھر سب رسولوں کو- اور سب سے پیچھے مجھ کو جو گویا اُدھورے دِنوں کی پیدائش ہوں دِکھائی دیا-1) “کرنتھیوں - (8-3:15 جس واقعہ کے اتنے عینی شاہد موجود ہوں، اُس کا انکار کِس طرح کیا جاسکتا ہے! اِس لئے ہمارا ایمان یہ ہے کہ مسءح نے صلیب پر اپنی جان دی اور تیسرے دن جی اُٹھا- یہ سب کچھ کتابِ مُقدّس یعنی عین خُدا کے پروگرام کے مطابق تھا- خدا نے بنی نوع انسان پر رحم کرتے ہوئے اُن کی نجات کی خاطر یہ انتظام کیا تھا کہ اُس کا محبوب، اُس کا پیارا لوگوں کی خاطر اپنی جان دے- اور مُردوں میں جِلا کر اُس نے دنیا پر ثابت کردیا کہ یہ قربانی قبول کی جاچکی ہے- موت جو انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے، مسیح نے اُس پر فتح پائی- اب ہمیں کِسی خوف، کسی خدشے کی ضرورت نہیں اب ہم بڑے سکون سے موت کو گلے لگاسکتے ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ جو موت پر فاتح ہئوا وہ ہمیں بھی زندہ کرے گا- خدا آپ کو بھی خداوند مسیح پر ایمان لانے کی توفیق بخشے- آمین
حاصلِ کلام قارئینِ کِرام!
آپ کو علم ہی ہوگا کہ ہر مذہب کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کی رُوح نجات پائے- نجات کی ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ انسان گنہگار ہے- اب چونکہ خدا سراسر پاک اس لئے وہ گناہ کو برداشت نہیں کرسکتا- چنانچہ جب حضرت آدم سے گناہ سرزد ہُوا تو خدا نے اُسے اپنی حضوری سے نکال دیا- یوں خدا اور انسان میں جدائی پیدا ہوگئی- خدا سے جدائی ہی روحانی موت ہے یعنی انسان روحانی طور پر مرگیا- لیکن چونکہ خدا انسان سے محبت رکھتا ہے اس لئے وہ نہیں چاہتا کہ وہ ہلاک ہو- پس اُس نے انسان کی نجات کا انتظام کیا- اُس نے اس لئے کیا کیونکہ انسان گنہگار ہونے کے باعث ازخود اپنی مساعی سے نہیں بچ سکتا- چونکہ انسان کی طبیعت میں گناہ رچا بسا ہوا ہے- اِس لئے اُس سے کوئی نیکی سرزد ہو ہی نہیں سکتی، ایسی جو کہ خدا کی نظروں میں مقبول ٹھہرے- بدیں وجہ کلام پاک میں لکھا ہے کہ ”حبشی اپنے چمڑے کو یا چِیتا اپنے داغوں کو بدل سکے تو تُم بھی جو بدی کے عادی ہو نیکی کرسکوگے“ )یرمیاہ- (23 : 13 پس خدا نے وہ کام کیا جو انسان سے نہیں ہوسکتا تھا تاکہ خدا اور انسان کی ٹوٹی ہوئی رفاقت پھر بحال ہوسکے اور انسان ابدی ہلاکت سے بچ جائے- ابتدامیں خدا نے گناہوں کی معافی کے لئے جو طریقہ مقرر کیا وہ قربانی تھا- لیکن یہ انتظام عارضی تھا جو ایک کامل انتظام کی طرف اشارہ کرتا تھا- عہدِ عتیق کے زمانہ تک لوگ اسی طریقے سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرتے رہے- لیکن جب وقت پورا ہوگیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ اُس کا یہ عارضی انتظام پایہ تکمیل کو پہنچے- المسیح کا یہ تجسم اس لئے تھا کہ وہ کامل انسان ہوتے ہوئے گنہگار انسان کے گناہ اپنے اوپر اٹھالے- اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ موت سہے کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے- پس مسیح خداوند نے رضا کارانہ صلیبی موت سہی اور انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا- خدا نے اِس کفارہ کو قبول کرلیا اور اِس کی تصدیق مسیح خداوند کو مُردوں میں سے زندہ کرکے کی- مسیح خداوند نے گنہگار انسانوں کے لئے راہِ نجات مہیّا کردی ہے- اب اگر کوئی شخص اپنے آپ کو گنہگار جانتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور مسیح پر ایمان لے آئے کہ اُس نے اس کے گناہ اپنے اوپر اٹھالئے ہیں تو اُسے نجات مل جاتی ہے اور وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہوجاتا ہے-