12-آخری ایام

آخری ایام
ہم جس دور سے گذررہے ہیں اُس میں ہر طرف ظلم کا دور دوراں ہے۔انسان میں غیر انسانی رحجانات پروان چڑھ ر ہے ہیں۔انسان کی خود غرضی بھیانک شکل اختیار کرچکی ہے۔ہر طرف جنگ کی آگ لگی ہے۔ہر طرف تباہی وبربادی موت کا ناچ ناچ رہی ہے۔اس گنہگارانسان کے پاس اتنی  طاقت آچکی ہے  کہ وہ ایک لمحے میں پوری دنیا کو تباہ کرسکتا ہے۔ہر طاقتور ہر کمزور کو اپنا نوالہ سمجھتاہے۔ہم چاند پر تو پہنچ گئے لیکن زمین کے مسائل ہم اب تک حل نہ کرسکے۔ہر طرف نفرت کے بھوت ناچتے پھر رہے ہیں۔ہمیں یہ سب بڑی عجیب وغریب دیکھائی دیتی ہیں۔لیکن کتاب مقدس یعنی بائبل مقدس میں صدیوں پہلے آخری ایام کے متعلق کہا گیا تھا وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدائےاقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہوا ہوگا۔ جناب مسیح نے فرمایا بہتیرے میرے نام سے آئینگے۔اور کہینگے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرینگے۔اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنوگے۔ خبردار گھبرا نہ جانا کیونکہ ان باتوں کا ہونا ضرور ہے۔لیکن اُس وقت خاتمہ نہ ہوگا کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت  چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئینگے۔لیکن یہ سب باتیں مصیتبوں کا شروع ہی ہونگی۔اُس وقت لوگ تم کو ایذا دینے کے لئے پکڑوائیں گے۔اور تم کو قتل کریں گے  اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھیں گی۔اور اُس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گےاورایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑیں ہونگے۔اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا۔اور بادشاہی کی اس خوشخبری کی تبلیغ تمام دنیا میں ہوگی۔تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی اور تب خاتمہ ہوگا۔اور اُس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع نہ اب تک ہوئی اور نہ کبھی ہوگی اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہوجائے گا ا ور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گرینگے اور آسمانوں کی قوتیں ہلائیں جائینگی۔
یوم آخرت کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرمایا گیا" اُس دن آسمان بڑے شوروغل کے ساتھ برباد ہوجائینگے۔اور اجرام فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائینگے۔اور زمین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے۔سورج چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہونگے۔ اور زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی کیونکہ وہ سمندر اور اس کی لہروں کے شور سے گھبرا جائیں گی اور ڈر کے مارے زمین پر آنے والی بلاؤں  راہ دیکھتے دیکھتے  لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی اس لئے کہ آسمان کی قوتیں ہلائیں جائیں گی۔غرض کہاں تک حوالے دیئے جائیں گے۔اس دنیا کے آخری ایام کی پہچان کے لئے یہی بہت ہے۔ذرا سوچئے کہ آج تمام اقوام عالم مصیبت میں گرفتار نہیں۔کیا آج کسی کو اس مصیبت سے باہر نکلنے کاکوئی راستہ ملتاہے۔کیا جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح کھڑے نہیں ہوئے۔اور بہت سے لوگوں کو اپنا پیروکار نہیں بنالیا۔ کیا ہم ہرروز لڑائیوں کی خبریں نہیں سنتے۔کیا ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ آور نہیں کیا لوگ موت کا لقمہ نہیں بن رہے۔کیا دنیا میں خوراک کی کمی نہیں کیا زلزلوں نے زمین کی بنیادیں نہیں ہلادیں۔کیا قتل وغارت عام نہیں۔کیا نفرت کے چشمے نہیں پھوٹ رہے کیا محبت ٹھنڈی نہیں پڑرہی۔کیا انجیل مقدس کی تبلیغ تمام دنیا میں نہیں کی جارہی ۔کیا چاند گرہن اور سورج گرہن ہمارے روز مرہ کا تجربہ نہیں بن گئے۔کیا شہاب ثاقب نہیں گررہے کیا سیلاب پورے مما لک کواپنی لپیٹ میں لئے ہوئے نہیں  کیا ہم آسمان سے آگ نہیں برسار ہے ۔ کیا لوگوں کے دل حرکت کرنا بند نہیں کررہے ۔آخر یہ سب کچھ کیا ہے ہم موجودہ حالات سے  کیا نتیجہ اخذ کریں۔کیا ہماری نظریں بائبل مقدس کی پیش گوئیوں کی طرف نہیں اٹھ جاتیں۔لیکن ہم ایسے حالات میں کیا کریں کیا یہ بیٹھ کر حساب لگائیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ہم ایسا قطعاً نہیں کرسکتے کیونکہ اُس دن  اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا سوائے خدا کہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ دن کب آئیگا۔خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہےاور ہزار برس ایک دن کے برابر۔ لیکن ہم ایک بات ضرور جانتے ہیں کہ یہ دن اپنے مقررہ وقت پر  آئیگا۔جو بھی خدا نے اُس کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہو۔ہمارا کام حساب کتاب کرنا نہیں بلکہ اُس دن کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔اس تیار کے لئے بنیاد شرط یہ ہے  کہ آپ اپنے گناہوں سے توبہ کریں دنیا کے نجات دہندہ مسیح کو قبول کریں۔اوراُس کے نقشے قدم پر چلیں۔اگر آپ اپنے گناہوں کا اقرار کریں اور مسیح کو اپنا نجات دہندہ اور خدا مان لیں تو وہ آپ کو قبول کریں  گے اور بچائیں گے۔ رب العالمین سے دعا اور درخواست ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے کی توفیق بخشے۔ خدا کرے کہ آپ اُس واحد منجی اور خدا کو قبول کریں۔اور آنے والی تباہی سے محفوظ رہیں۔آمین