13-کلام اللہ

کلام اللہ
ازل ہی سے خدا کثرت والی وحدت میں باپ بیٹے اور روح القدس کی حیثیت سے موجود تھا اور محبت کا اظہار کرتا تھا۔اور کیوں نہ کرتا خدائے محبت جو ہوا۔اُس وقت تک نہ ہی زمین وجود میں آئی تھی اور نہ آسمان نہ چاند نہ سورج نہ ستارے نہ سیارے نہ حیوان نہ انسان پھر خدا نے چاہا کہ اپنی محبت کا مزید اظہار کرے۔اُس نے کائنات بنائی دنیا کو خلق کیا۔دنیا کو اورجوکچھ اُس میں اُس کو وجود بخشا۔ نیست سے ہست کیا زمین بنائی اوراُس سبزا  اُگایا اور رنگا رنگ پھولوں سے سجایا۔آسمان بنایا اوراسے چاند اور ستاروں سے سجایا۔آخر میں انسان کو پیدا کیا اور اس تمام کام کےلئے  نہ تواُسے مادے کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی محنت اور مشقت کی۔بس کہا ہوجا اور ہوگیا یہ ساری وسیع وعریض کائنات یہ کروڑوں سیارے اور ستارے ہرازوں کہکشائیں اُس کے کلام کی بدولت وجود میں آئیں۔ہم جو بولنے کے قابل ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا پیدا کرنے والاخدا بولنے والا خدا ہے۔ اگر خدا کا یہ کلام نہ چاہتا تو آج کوئی بھی نہ ہوتا۔ہم جو ہیں وہ خدا کے کلام کی بدولت ہیں۔خدا کا کلام وجہ کائنات ہے۔باعث تخلیق ہے سبب دنیا ہے۔ذرا غور فرمائیے آپ بغیر کلام کے  کسی کلام کرنے والے کا تصور ذہن میں پیدا ہوتاہے۔کیا کلام کرنے والا کا وجود کلام کی دلیل نہیں ۔کیا یہ سوچا جاسکتاہے کہ بات کرنے والا تو وہ لیکن بات نہ ہو۔کیا کلام اور کلام کرنے والا لازم وملزوم نہیں۔ ہیں؟ اور یقیناً ہیں۔جہاں متکلم ہیں وہاں کلام ہے۔اورجہاں کلام ہے وہ متکلم ہے۔ایک کا دوسرے کے بغیر تصور ممکن ہی نہیں۔کلام کرنے والے اوراُس کے کلام میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
    قارئین خدا ازل سے ہے اوراُس کی صفات بھی ازل سے ہے۔ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا  اور نہ ہی ممکن ہے کہ خدا اپنی صفات سے خالی رہا ہو۔ورنہ وہ صفت وقتی ٹھہرے گی اور اُس کا فنا پزیر ہونا لازم ہوگا۔کیونکہ تکلم یعنی کلام کرنا خدا کی صفت ہے اس لئے یہ بھی ازل سے ہوئی۔ خدا ازلی متکلم ٹھہرا جب وہ ازلی کلام کرنے والا ہے تو کلام بھی ازلی ٹھہرا ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ بات کرنے والا تو موجود تھا  لیکن بات نہیں تھی جو کسی طرح ممکن نہیں اس لئے کلام کی ازلیت  ازروئے منطق پائے تکمیل کو پہنچی۔ دنیا اس مسئلے کو حل کرنے میں لگی ہے کہ یہ کلام کیا ہے؟بائبل مقدس اس مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے اوریہ کہتی ہے کہ سوال یہ نہیں کہ یہ کلام کیا ہے؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ کلام کون ہے؟  کیونکہ ازلی تو ہستی ہوگی  اور اگر ازلی ہے تو مخلوق نہ ٹھہرا اور مخلوق نہ ہوا تو خالق ٹھہرا یہی وجہ ہے کہ خدا کلام یعنی بائبل مقدس  واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ " ابتدا میں کلام تھا کلام خدا کے ساتھ اور کلام خدا تھا" (آیت پوری لکھیں)۔
    آخر یہ کلام کون ہے؟  جس کے وسیلے سے پوری کائنات وجود میں آئی جناب مسیح کے حواری جوکہ عینی شاہد بھی تھے فرمایا کہ کلام مجسم ہوا(آیت لکھیں )۔جیسے باپ کے اکلوتے کا جلال)
    یہ کلام جس کے وسیلے سے دنیا پیدا ہوئی  وہ مسیح کی ذات اقدس ہے۔ہم نے دیکھا کہ خدا کا کلام ازلی ہے وقت نہیں خالق ہے مخلوق نہیں  اس لئے خدا کا کلام ازلی اور کلام  نفسی یعنی جناب مسیح  ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔وہ خالق ہے مخلوق نہیں  اسی کی بدولت یہ کائنات وجود میں آئی اور موجود ہے۔اُس ابدی اور خالق کلام کی تمجید ہو۔
    ایک اور انداز سے اس مسئلے پر غور کریں کہ انسان کا کلام اُس کی ذات کا آئینہ دار ہوتاہے۔ہم کسی کے کلام کے ذریعے  متکلم کو پہچانتے ہیں۔ بات جو ہے بات کرنے والے سے جدا نہیں رہتی بلکہ بات کرنے والے کی ذات کا عکس اور پرتو ہوتی ہے۔کلام متکلم کی پہچان کا ذریعہ ہے۔ جس نے کلام کو رد کردیا اُس نے کلام کرنے والے کو رد کردیا۔جس نے کسی بات کو جھٹلایا اُس نے خود اپنے آپ کو جھٹلایا۔ کلام کرنے والے کی ذات تک پہنچنے کا اور اُس کو پہچاننے کا  کلام ہی ذریعہ ہے۔اسی طرح مسیح خدا کلام ہونے کی وجہ سے  خدا کی ذات کا نقش اور پرتو ہیں۔خدا کی پہچان ہے اُس تک پہچنے کا واحد ذریعہ ہے۔جس نے مسیح کو نہ پہچانا اُس نے خدا کو پہچانا۔ جس نے مسیح کو رد کیا اُس نے خدا کو رد کیا۔ خدا کے کلام کو نہ پہچانا خود خدا سے لاعلمی کی دلیل ہے۔جس نے مسیح کو خدا کے ازلی کلام کی حیثیت سے نہیں پہچانا  وہ ازلی خدا سے ناواقف ہے۔
    قارئین کرام ! کلام کرنے والے کی ذات  کااظہار اُس کا کلام ہوتاہے۔اگر کلام کرنے والا آپ کے سامنے موجود نہ ہو توآپ اُسے صرف اُس کے کلام سے جانتے ہیں۔چونکہ خدا نادیدنی نہیں ہےآنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتااسی لئے اسے جاننے کے لئے اُس کے کلام یعنی جناب مسیح کو جاننا بہت ضروری ہے۔ وہی تو مظہر ِ خدا ہے اسی سے تو خدا ظاہر ہوتاہے ۔ مسیح کو دیکھنے کے بعد ہی یہ اندازہ ہوتاہے کہ خدا کون ہے اور خدا کیسا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مسیح نے خود کہا  جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ (خدا) کودیکھا۔مسیح نے اپنے آپ کو خدا کا کلام ہونے کی وجہ سے خدا کا مکمل مظہر ٹھہرایا ہے۔خداوند رب العزت سے درخواست ہے کہ وہ آپ کو توفیق بخشے کے مسیح کو خدا کے کلام ہونے کی حیثیت سے  پہچانیں اور جانیں ۔ اسے خالق کلام ہونے کی حیثیت سے جانیں ۔ اسے ازلی کلام کی حیثیت سے جانیں ۔ اسے خدا کی ذات کے نقش اور پرتو کی حیثیت سے جانیں۔  اسے خدا کے مظہر کلام کی حیثیت سے جانیں۔اور اس طرح خود خدا کو پہچاننے اور جاننے کے قابل ہوسکیں۔خدا تعالیٰ آپ سب کو یہ سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین۔